لاہور کا سیکیورٹی نظام اورمستقبل

By Benson Robinson

لاہورپاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور انتظامی لحاظ سے صوبہ پنجاب کا صوبائی دار الحکومت ہے جوپوری دنیا میں ایک مشہور اور تاریخی شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پاکستان میں لاہور ایک تاریخی،تجارتی اور ثقافتی مقام کا حیثیت رکھتا ہے۔ دنیابھر سے سیاح اس شہر کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ جیسے کے ایک کہاوت بھی مشہور ہے۔ “جنے لاہور نی ویکھیا او جمیا ای نہیں”۔لاہور پاکستان کا دل ہے،یہ شہر اپنی ثقافت تہوار اورلذید کھانوں کی وجہ سے اپنا اہم مقام رکھتا ہےیہی وجہ ہے کہ یہ شہرتاریخی باغوں، طرح طرح کےشاپنگ مالز،فیشن بوتیکس ، فوڈ اسٹریٹس، ریستورانٹس اور کھانوں کے شوقین شہریوں کے باعث بہت مشہورہے لاہور کی سڑکوں پر دن رات شہریوں کا رش اور کھانا پینا چلتا رہتا
جیسے جیسے لاہور کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے ہی کچھ مسائل نے بھی جنم لینا شروع کر دیا اور جرائم میں اضافہ ہوتا چلا گیا، موبائل چھیننا‘ گن پوائنٹ پر ڈکیتی کی واردات کرنا‘ موٹرسائیکل چھیننا اور بارونق علاقوں میں خواتین سے پرس چھین کر موٹر سائیکل کے ذریعے فرارہوجانامعمول بن گیا
لاہور میں دہشت گردی کے واقعات ، ٹریفک اور جرائم پر قابو پانے کیلئے حکام نے لاہور کوسیف سٹی بنانے کا فیصلہ کیا جس سےلاہور کو محفوظ بنانے کیلئے کیمروں کی مدد سے اس کی نگرانی کی جا سکےاور ہر آنے جانے فرد پر نظر رکھی جا سکے اور ٹریفک جیسے مسائل کو بھی کیمروں کی مدد سے حل کیا جا سکے
بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب کے لیے پنجاب حکومت نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا منصوبہ شروع کیا۔ پراجیکٹس کا مقصد شہر میں کیمرے نصب کرکے سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانا تھا
جس کے تحت لاہور شہر میں 8 ہزار کیمروں کی تنصیب مکمل کی گئی ۔ سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت ایک اینٹی گریٹڈ کمانڈ کنٹرول اینڈ کمیونیکشن سنٹر قائم کیا گیا جو پولیس ہیلپ لائن 15، ریسکیور1122، فائربریگیڈ اور ٹریفک پولیس کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔ ان تمام ہیلپ لائنز کو 15 پر منتقل کیا گیا کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں 15 پر کال کرنے سے ان تمام اداروں کی مدد حاصل کی جا سکتی ہےشہر کو کیمروں کی مدد سے مانیٹر کرنے کا مقصد شہر میں ہونے والے جرائم، احتجاج، ریلیوں، ٹریفک کی صورتحال یا کسی بھی ناخوشگوار حالات پر جلد سے جلد قابو پانا تھا
پنجاب سیف سٹیز کا منصوبہ روزمرہ کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قیام امن،ایمرجنسی سروسز کی فراہمی ، دہشت گردی و انتہاء پسندی کے خاتمے کے حوالے سے سیف سٹی پراجیکٹ کلیدی اہمیت کی حامل ہے
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا جدید پولیس یونیفائیڈ کمیونیکیشن اینڈ رسپانس سسٹم پنجاب بھر میں شروع کیا گیا۔ پُکار15 پاکستان اور جنوبی ایشیا میں اپنی طرز کا واحد اور منفرد ایمرجنسی سسٹم ہے اس سلسلہ میں سیف سٹیز اتھارٹی نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع کیلئے مخصوص سینٹرلائیزڈ کال سینٹر اور رسپانس میکنزم تیارکیا ہے
پاکستان تحریک انصاف اور بلخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب نے سیف سٹیز ماڈل کی ایکپینشن اور اس کے دیگر شہروں تک پھیلاؤ کیلئے اہم اقدامات کیے قصور میں بھی وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے سیف سٹیز اتھارٹی سینٹر کا افتتاح کیا اس کے علاوہ سیف سٹیز اتھارٹی اب پنجاب حکومت کی ہدایات پر سندھ اور کے پی کے حکومت کو بھی سیف سٹی اتھارٹی بنانے کیلے مدد فراہم کرنے جا رہی ہے
پنجاب کے دیگر چھ شہر راولپنڈی،فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، سرگودھا اور بہاولپور میں بھی سیف سٹی پراجیکٹ سے شہری سکھ کا سانس لیں گے،ان شہروں میں بھی تیزی سے کام جاری ہے ۔ اگر خلوص نیت سے اس پر عمل کیا گیا تو کوئی وجہ نہیں کہ جرائم پر قابو نہ پایاجاسکے اور جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہو اور ایک ان ایسا آئے کہ پنجاب بلکہ پاکستان سیف پاکستان بن جائے۔