اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذکریا ذاکر سے دلچسپ مکالمہ

دنیا میں کامیاب شخصیات کی ترقی بارے مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نامور شخصیات نے علم و ادب اور کچھ کر گزرنے کی لگن میں اپنے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ، تاریخ کے اوراق کھنگالنے سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسان نے بزریعہ علم وتحقیق ہی چاند تک کو تسخیر کیا اور جیدید ترین دور میں نت نئی ایجادات کر کے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اگر ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ بذریعہ دن رات محنت سے علم کی دنیا میں ابھرتا نام پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر کی کہی نظیر نہیں ملے گی ۔ پی ایچ ڈی کے ڈگری کے بعد بھی پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر صاحب کی تعلیم کی پیاس نہیں کم ہوئی تو انہوں نے تین پوسٹ ڈاک کر لی اور مختلف موضوعات پر اعلٰی معیار کے 64 جرنلرز لکھے۔

Image result for dr zakaria zakir

ریسرچ پر عبور ہونے کی بدولت 42 انٹرنیشنل اداروں نے 182ملین روپے کے ریسرچ پروجیکٹس پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر کو دیئے جن پر کام کر کے ریسرچ کے شعبے میں اپنا نام پیدا کیا اور نامور پنجاب یونیورسٹی میں بزریعہ تدریس نوجوان نسل میں علم کی لو لگانے کا بیڑا اٹھا لیا ۔انہوں نے 28 پی ایچ ڈی اور 52 ایم فل کھ طلباو طالبات کو انکے ریسرچ تھیسز میں سپروائزر کی حیثیت سے کام کروایا اور انکو ایک اچھا ریسرچر بنا کر کے ملک و قوم کی خدمت کی۔ پنجاب یونیورسٹی میں متعدد شعبوں کے چئیرمین رہنے کے بعد بل آخر جنوری دوہزار اٹھارہ میں اپنی تعلیم قابلیت کی بنا پر پنجاب یونیورسٹی کے ہی ایکٹنگ وائس چانسلر بنے اور پنجاب یونیورسٹی میں انقلابی کام کروائے ۔ حکومت پنجاب نے انکی قابلیت اور تجربے کو دیکھتے ہوئے ایک اہم فیصلہ کیا جس میں پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر کو اوکاڑہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر نامزد کردیا ۔ آج مجھے ڈاکٹر صاحب سے ہم قلام ہونے اور ان کے انٹرویو کا نادر موقع ملا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سر سے کچھ سوالوں کے جواب جانے گے۔

سوال : اوکاڑہ یونیورسٹی کسی دور میں کھنڈر کا منظر پیش کرتی تھی آج اس ایک انقلاب برپا ہو چکا ہے اور اس کے پیچھے ایک شخصیت ہے اور وہ ہے پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر ،،،،،،سر اس ناممکن کام کو آپ نے کیسے ممکن کیا؟
جواب: آپ کی محبت کا شکریہ ،،، میں سمجھتا ہوں کہ ادارے اجتماعی کوشش سے بنتے ہیں ،، اوکاڑہ یونیورسٹی ایک پبلک سیکٹریونیورسٹی ہے، جس میں ڈیڑھ سو سے زائدپروفیسرز، اسیسٹنٹ پروفیسرز،ڈاکٹرز،لیکچرز، اساتذہ ہیں اور اس وقت چھ ہزار کے قریب طلباو طالبات اوکاڑہ یونیورسٹی میں تعلیم کے زیور سے آراستہ کر ہورہے ہیں، اور دو سوکے قریب ملازمین ہیں، اوکاڑہ یونیورسٹی کو گورنمنٹ کی طرف سے فنڈزملتے ہیں جس سے انتظامی معاملات چلائے جاتے ہیں ۔ اوکاڑہ یونیورسٹی کسی فرد واحد کی مرہون منت نہیں ہے ،اس یونیورسٹی کی ترقی میںاساتذہ، انتظامی امور کے افراد کے ساتھ ساتھ طالبعلم بھی مل کر اپناکردار ادا کر رہے ہیں،،، میری صرف کوشش یہی ہے کہ اس ادارے کو اکیسوی صدی کے جدید معیارکے مطابق بنا دوں جس سے خاص کر ہمارا نوجوان طبقہ مستفید ہو سکے۔لوگ فخر سے اس یونیورسٹی میں داخلہ لے اور جو قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالی ہے کہ©©©،،،،،،، علم نافے،،،، ایک نفع دینے والا علم ہو اور ہم جو علم بچوں کو دے وہ ملکی اور عالمی معیار کے مطابق ہو اور یونیورسٹی کے جو طلبہ ہیں اور ملکی اور عالمی دنیا میں پاکستان کے سفیر کے طور پر پہچانے جائے۔

سوال : سر اس وقت پاکستان کو جوتعلیمی چیلنجز کا سامنا ہے اوکاڑہ یونیورسٹی اس اعتبار سے کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟
جواب: اوکاڑہ یونیورسٹی بچوں کو انٹرنیشنل معیار کی تعلیم فراہم کر رہی ہے، ہماری یونیورسٹی کی فیکلٹی میں پروفیسرز ،ڈاکٹرزشامل ہیں جنہوں نے باہرکے ممالک سے ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاک کی تعلیم حاصل کی ہے اور ہر کوئی بہتر طریقے سے جانتا ہے فارن فیکلٹی یونیورسٹی کے تعلیمی اور ریسرچ کے معیار کو کتنا بلند کرتی ہے اور طلبہ و طالبات کو ملکی اور عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔دراصل یوتھ کو پالش کر نا یونیورسٹیز کا کام ہوتا ہے۔اور والدین کو بھی کریڈٹ دینا چاہیے کیونکہ بچے کی اولین تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔اور والدین اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو یونیورسٹی بھیجتے ہیںاور وہ محنتی بچے جب ادارے میں آکر پڑھتے ہیں اور سائنسی علوم میں دلچسپی لیکر آگے بڑھتے ہیںتو یہ سارے مراحل طالبعلم کو ذہنی اور تعلیمی طور پر اتنا مضبوط کر دیتے ہیں کہ یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہر طالبعلم ملکی ترقی میں اپنا کردار اداکرنا شروع کر دیتا ہے۔

سوال : ڈاکٹر صاحب یونیورسٹی آف اوکاڑہ آپ کے آنے سے پہلے اور اب آپ کے آ جانے کے بعد کتنے پروگرامز آفرز کر رہی ہے؟
جواب: یونیورسٹی آف اوکاڑہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن کاایک سب کیمپس تھا۔ اور سب کیمپس تو ایک ذیلی ادارہ ہوتا ہے اور اس کو یونیورسٹی کا اسٹیٹس دو ہزار سولہ میں ملا ہے۔گورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے دو ہزار اٹھارہ میںمجھے پہلے وائس چانسلر کے طور پر نامزد کیا گیا۔میں نے آتے ہی سب سے پہلے ایک ریسرچ کنڈکٹ کروائی اور یونیورسٹی کے اساتذہ سے میٹنگ کرکے ایک فیصلہ کیا جس میں چالیس کے نئے پرگرامزمیںداخلے شروع کروائے۔اب ہر طالبعلم جواوکاڑہ، ساہیوال،فیصل آباد ،قصور اور دیگر شہروں میں سے ہے وہ لاہور،کراچی،اسلام آباد،خیبرپختونخوا نہیں جاسکتا، پہلے ہی بڑے شہروں کے بڑے مسائل ہے ٹریفک ،ماحولیاتی ،پانی ،ہیلتھ اور دیگرمسائل نے شہریوں کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔اور میں سمجھتاہوں کہ یہاں کے رہنے والے طالبعملوں اور والدین کا اوکاڑہ یونیورسٹی کے تعلیمی معیار پراعتماد کرنے کی وجہ سے ہی اب یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب اکتوبر میں ہونے والے داخلوں سے اوکاڑہ یونیورسٹی میں طالبعلموں کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ جائے گی۔

سوال: گورنمنٹ آف پنجاب کے حالیہ بجٹ میںاعلان کردہ چھ نئی یونیورسٹیز بنانے کے اقدام کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا اس عمل سے پنجاب میں تعلیمی انقلاب برپا ہو سکے گا؟
َََََََََََََََََََََََََََََََجواب: میں سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ آف پاکستان اور گورنمنٹ آف پنجاب کا یہ ایک بہت خوش آئند عمل ہے کہ تقریباہر ڈسٹرکٹ میں ایک یونیورسٹی کھول رہے ہیں۔کیونکہ اب یہ ایک علم اور سائنس کی دنیا ہے ہر قوم و ملک نے علم کی بدولت ہی ترقی کرنی ہے۔آپ دیکھ لے یورپی ممالک کی طرف علم کی بدولت آج کہاں ہے اور ہر روز نت نئی ایجادات ہورہی ہے جس سے انکے شہریوں کا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے۔اب اکیسوی صدی ہے اور پاکستان کی حکومت کو اس جدید ترین دور کے معیار کو ہرطرح سے دیکھنا ہو گا اور تعلیم کے معیار کی بدولت کی ہم اقوام عالم کو اپنی طرف متوجہ کرسکتے ہیں ۔ہمیں سائنس اورجدید ٹیکنالوجی کے مضامین میں ہنگامی طور پر ایمرجنسی بافذ کر نی ہو گی اور اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ فنڈز مہیا کرنے ہو گے۔ پاکستانی عوام کو ایک وژن رکھنے والااور تعلیم کی اہمیت کو جاننے والی قیادت ملی ہے جس کا سارا فوکس کی عوامی فلاح وبہبود اور تعلیمی ترقی پر ہے۔یہی درست وقت ہے جب تعلیم کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی ہر ڈسٹرکٹ میں یونیورسٹی کی تعلیم دلوا کر معاشرے کی ترقی ممکن ہوگی۔آپ دیکھئے جاپان کے شہر ٹوکیو میں ہی کئی سو یونیورسٹیز ہیں جس کی وجہ سے جاپان آج اتنی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔اب ممالک کو مزدوروں کی ضرورت نہیں ہے انہیں اعلی معیاری تعلیم والے افراد چاہیے کیونکہ کام کرنے کیلئے تو مشینیں ایجاد کرلی ہے اب ملکی ترقی تعلیم کی مرہون منت ہے۔ پاکستانی حکومت نے یونیورسٹی کی صورت میں یوتھ کو پالش کرنے کا جو اقدام اٹھانے کا سوچا ہے آپ دیکھئے گااس عمل سے پاکستان کو کتنا فاہدہ حاصل ہوگا۔اکیسوی صدی میں جنگ صرف تعلیم کی ہے جتنا معیار تعلیم بلند ہو گا اتنا ہی ملک ترقی کرے گا۔

سوال: سر کشمیر کے معاملے پر تعلیمی اعتبار سے اوکاڑہ یونیورسٹی نے کیاکچھ کیا ہے؟ دیگر یونیورسٹیز اس معاملے پر کیا کردار ادا کر سکتی ہیں؟
جواب: دیکھئے ایک بات تو بلکل واضح ہے کہ کشمیر پاکستان کی شاہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر پاکستانی میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ کشمیر میں ہیومن لاز کو پاو¿ں تلے کچلا جارہا ہے۔وہاں ماو¿ں ،بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیںاورحالیہ بھارتی اقدام کے بعد وہاں نشل کشی کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔اب ہمیں یورپی ممالک کو ان سب مظالم اوراوچھے اقدامات بارے آگاہ کرنا ہے تو یہ تعلیم کی بدولت ممکن ہے ہمیں یونیورسٹی لیول پر ہیومن رائٹس سنٹر بنانے ہو گے۔ اور مجھے یہ بتاتے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اوکاڑہ یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے سنٹر دی سٹیڈی آف ہیومن رائٹس بنایا ہے۔یہاں ہمارے سکالرز کشمیر یوں پر ہونے والے مظالم کو اکیڈمک طریقے سے لکھ کر شائع کرے گے اور ہر ہفتے پریس بریفنگ کے ساتھ ساتھ ہماری ہر طرح سے پوری کوشش ہوگی کے گلوبل پریس میں بھی ہم اپنی بات پہنچاسکے کیو نکہ اب تعلیم کی دنیا ہے تو تعلیمی طریقے سے ہی ہم کشمیروں پر ہونے والے مظالم سے دنیا کو آگاہ کرسکتے ہیں۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں ہمارے لکھے آرٹیکلز، ریسرچز اورپی آر ریویوز کشمیریوں سے منصوب جرنلز ہی دنیاکی توجہ انڈیا کیطرف مبذول کروائے گی۔اور امید ہے تبھی اس مسئلے کا حل ممکن ہوگا۔

سوال : سر یونیورسٹی آف اوکاڑہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل یعنی عملی طور پر کیا کر رہی ہے ؟ جس سے طالبعلم کو تعلیم پوری کرنے کے بعد مارکیٹ میں نوکری کا حصول ممکن ہوسکے۔
جواب: یہ ایک سوچ بن چکی ہے کہ یونیورسٹی نے تھیوری پڑھا دی اور پریکٹیکل کروایا نہیں ۔جس کی وجہ سے نوکری ملی نہیں،اس کا موردالزام یونیورسٹیزکو ٹھہراناانتہای نامناسب ہوگا۔ہمیں اب اس سوچ کو بدلنا ہو گاکیو نکہ ہر تعلیمی ادارے اور انڈسٹر ی کا باہمی تعلق نہیں ہوتا۔ہر تعلیمی ادارے کا یہ فرض ہوتا ہے کہ ہیومن ریسوس کوپالش کرنا اور پھر آگے مارکیٹ یا انڈسٹری میں بھیج دینا پھر روزگار کے مواقع پیداکرنا حکومت،انڈسٹری کاکام ہے۔دراصل ہرانسان اپنی محنت اور کام سے دلجوئی کی صورت میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایسا کبھی بھی ممکن نہیں ہے کہ ایک طالبعلم نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اگلے ہی دن اس نے ایف سولہ بنا دیا ۔یونیورسٹیاں صدیوں میں بنتی ہیں یہ ایسے نہیں بنتی کہ ایک پارلیمنٹ سے ایکٹ پاس کیااور پھر اگلے ہی روز یونیورسٹی بن گئی ، ہم جلد از جلدسیمنٹ بجری ریت اور اینٹ سے یونیورسٹی کا ڈھانچہ تو کھڑا کر دے گے لیکن یونیورسٹی مین پاور سے بنے گی ۔یونیورسٹی حرمت و احترام والی جگہیں ہیں۔ہمیں اس سوچ کو سے باہر نکلنا ہو گا تاکہ یونیورسٹیز کے وقار اور اسکی ساکھ کو محفوظ رکھا جاسکے۔

سوال: معاشرے کی اصلا ح کے ساتھ ساتھ ملکی اور عوامی ترقی کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہیے جس سے ہم ناممکن کو ممکن بناسکے؟
جواب: میں سمجھتا ہو کہ والدین کو اب سمجھنا ہو گا کہ خواتین کی تعلیم سے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے کسی دانشور نے کیا خوب کہا تھا کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دوں میں تمہیںبدلے میں ایک سلجھا ہو ا معاشرہ دو نگا۔ ایک پڑھی لکھی ماں ہی اپنی اولاد کی درست تربیت کرسکتی ہے کیونکہ ہر بچے کی پہلی درسگاہ اس کا اپنا گھر ہوتا ہے وہی سے وہ تربیت حاصل کرتا ہے۔ایک پڑھا لکھا اور ان پڑ ھ کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔یونیورسٹیاں ،تعلیمی ادارے ،سکولز،کالجز سب میں ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ دوسری جنگ عظیم میں کہا گیا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے ملک میں موجود تعلیمی اداروں پر حملہ نہیں کرے تا کہ تعلیمی اعتبار سے ہمارہ معاشرہ پیچھے نہ رہ جائے ۔بل آخر پاکستان کی ترقی تعلیم سے منحصر ہے ۔ ایک تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے جو معاشرے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی کوبھی ممکن بناتا ہے۔علم ہی پاکستان کے بقا کاواحد ضامن ہے۔

انٹرویور کا تعارف

رانا عثمان نوجوان صحافی ہیں جو ایک نجی چینل سے بطورِ رن ڈون پروڈوسر منسلک ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم ایسی ای ابلاغیات اور سپیرٗر یونیورسٹی سے ایم فل میڈیا سڈیز کر رہے ہیں۔