ہم اپنے ڈپریشن کو کیسے کم کر سکتے ہیں؟

تحریر: سیدہ ثناء بتول کاظمی ؟


دورِ حاضر میں ڈپریشن ایک ایسا مرض ہے جس نے نہ صرف عمر رسیدہ بلکہ نوجوان نسل کو بھی اپنی زد میں لے رکھا ہے ۔ یہ مرض دن بہ دن لوگو ں میں بڑی تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے ۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں پر آج ہم اس پر قابو پانے کے چند طریقوں پر بات کریں گے کہ کیسے ان طریقوں کے استعمال سے ڈپریشن کو کم کیا جا سکتا ہے۔


ڈپریشن میں کمی کے لیے ایک موثر طریقہ کار لکھنا ہے ایک شخص جو ڈپریشن میں مبتلا ہو اس حالت میں اسکو کہیں بھی لے جاؤ وہ نہ مطمئن اور بے چین ہی رہتا ہے وہ اپنی اس حالت کو سمجھ نہیں پاتا اور اپنے احساسات میں توازن نہیں رکھ پاتا ، جو بھی وہ محسوس کرے لکھے ، ڈپریشن یا بے چینی پر قابو پانے کا اور اپنے احساسات کو ظاہر کرنے کا لکھنا ایک بہتریں طریقہ ہے۔ کچھ محققین نے یہ بات ثابت کی ہے لکھنا ڈپریشن پر قابو پانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔


ڈپریشن کی کمی کے لیے ایک حل چیل قدمی اور ورزش بھی ہے۔ جب انسان صبح کو سیر و تفریح یا ورزش کے لیے جاتا ہے تو انسانی جسم زدہ آکسیجن جذب کرتا ہے جس سے جسم میں منفی ہارمونز کم اور مثبت ہارمونز زیادہ ایکٹو ہوجاتے ہیں اور دماغ کو مثبت سگنل منتقل کرتے ہیں جو ڈپریشن اور بے چینی میں کمی کا باعث بنتے ہے


جب کبھی بھی آپکو بے چینی، اصطراب ، ڈپریشن یا گھبراہٹ محسوس ہو تو آپکو کچھ مزیدار چیز کھانی چاہیے۔ ٹیسٹی کھانے کے بعد آپ بہت بہتر محسوس کریں گے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کھانہ بنا نے کا شوق رکھتے ہیں تو کھانہ بنانا بھی ایک ایسی مصروفیت ہے جو اس مرض میں کمی کا باعث بنتا ہے۔


خوشبو کا استعمال اس ڈپریشن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ آپ نے کبھی محسوس کیا ہے جب کبھی بھی ہم کسی پھولوں یا پرفیوم کی دکان پر جاتے ہیں تو ہمارا موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے تو جب کبھی بھی ڈپریشن محسوس ہو تو پرفیوم کا استعمال اچھا ثابت ہوتا ہے کہا جاتا ہے کے خوشبویں انسان کی شاندار اور حساس ایجاد ہے کیونکہ یہ ذہنی گھبرایٹ میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ 
کچھ محققین کا کہنا یہ بھی ہے کہ گر آپ ڈپریشن یا بے چینی محسوع کریں تو کیفین یکسر نظرانداز کریں کیونکہ اس کے استعمال سے اس حالت میں اضافہ ہوتا ہے۔

مصنفہ کا تعارف:

مصنفہ ادارہ علومِ ابلاغیات جامعہ پنجاب کی فارخ التحصیل ہیں اور پنجاب یونیورسٹی لاہور ہی سے علومِ سیاسیات میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ عوامی رویوں میں مثبت تبدیلی کی خواں اور سماجی و معاشرتی مسائل پر لکھنے کا شوق رکھتی ہیں۔