کیا فیشن ٹرینڈز ہماری نوجوان نسل کو گمراہی کی طرف لے جارہے ہیں؟

تحریر: سیدہ ثناء بتول کاظمی 

فیشن ٹرینڈز اس تیزے سے بدلتے ہیں جیسے ہم اپنی لپسٹک کے رنگ تبدیل کرتے ہیں۔ فیشن ہمارے معاشرے کے مختلف پہلوں پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ایک ریسرچ کے مطابق فیشن سماجی، اقتصادی، سیاسی مناظر میں تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔ ایک جگہ جہاں فیشن تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں معاشرے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وہاں نوجوان نسل کو گمراہی کی طرف لے جا راہا ہے۔ نت نئے فیشن کے بہت سارے منفی اثرات ہمارے معاشرے کے لوگوں خاص طور پر نوجوان لڑکیوں پر پڑرہے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل فیشن اپنانے کو اپنی زندگی کا نصب العین سمجھ بیٹھی ہے۔ اب جوطبقہ تیزی سے بدلتے فیشن کو اپنا سکتا ہے وہ تو مطمین نظر آتے ہیں لیکن جو طبقہ نہیں اپنا سکتا وہ احساس کمتری کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔اور اس طرح ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے طبقات میں دن بہ دن طبقاتی فرق پیدا ہورہا ہے۔

بدلتے فیشن کا جنون ہماری نوجوان لڑکیوں میں اس قدر پایا جاتا ہے کے معاشرتی اقدار تو ایک طرف ، اسلامی اصولوں کوبھی یکسر نظرانداز کر بیٹھی ہیں۔ ہمارے اسلام نے اگرچہ انسانوں پر زیادہ پابندیاں عائدنہیں کئیں اور عورتوں کے حقوق کاتو تمام تر مذاہب سے زیادہ خیال رکھا ہے پر پھر بھی چند ایک حدودہیں جن کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔اواس میں ہی لباس کی خوبصورتی ہے ۔

پہلا فیشن ویک نیویارک میں۱۹۴۳ء میں شروع ہوا۔ اس فیشن ویک کا بنیادی مقصد دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانسی فیشن سے لوگوں کی توجہ ہٹانا اور امریکی ڈیزائنرزکے لئے راستہ ہموار کرنا تھا۔ اسکا مطلب فیشن کے ذریے ہم لوگوں کے رجانات بدل سکتے ہیں تو فیشن ٹرینڈز متعارف کروانے والے ایسا فیشن کیوں نہیں متعارف کرواتے جس سے پاکستانی ثقافت کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین کو بھی اجاگر کیا جائے اور ہماری نوجوان نسل خاص طور پر لڑکیوں میں اپنے لباس سے متعلق حدود کو واضع کیا جائے۔اس طرح ہمارامعاشرہ مختلف قسم کی گمراہی کا شکار ہونے سے بچ سکتا ہےاور نوجوان نسل میں بھی شعور پیدا کیا جاسکتا ہے۔

آج کل کے فیشن ٹرینڈز ہماری نسل کو بھٹکارہے ہیں، وہ اپنی تخلیقی سرگرمیوں سے دور نظر آتے ہیں وہ اپنے مستقبل کی طرف توجہ دینے کے بجائے فیشن ٹرینڈز کو اپنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ نت نئے برینڈز ، زرق برق لباس ، مختلف اقسام کے جوتے ، مہنگے سے مہنگا میک اپ اور اس طرح کی فضول خرچیاں کیا ہمارے جیسی ترقی پزیر ممالک کے لوگو کو زیب دیتی ہیں۔ اگر ہم عتدال پسندی سے کام لیں تو ہم اس طرح اپنے ملک کی ترقی ہیں حصہ لے سکتے ہیں جو کے ہمارے ملک کے لیے ایک مثبت اقدام ہوگا۔کیونکہ تیزی سے بدلتے فیشن ٹرینڈز ہماری آئندہ نسل کے لیے گمراہی اہی کا سامان ہے۔متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل جو روز روز بدلتے فیشن ٹرینڈز کو اپنا نہیں سکتی اور اس وجہ سے ہماری نسل میں احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہے۔

اگر ہم فیشن کے مثبت پہلو کی طرف دیکھے تو فیشن ایک فن ہے جو لوگوں کواپنی تخلیقی صلاحیت اجاگر کرنے کا مو قع فرہم کرتا ہے۔ لوگ اکثر اپنی ذاتی شناخت، اپنی قابلیت، ثقافت کو اپنے فیشن کے انتخاب کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ فیشن ٹریندز کے زریعے ہم اپنی معاشرتی ا قدار کو نمایا کر سکتے ہیں اور نوجوان نسل کی سوچ میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں تاکے معاشرے میں طبقاتی فرق کو بھی مٹایا جاسکے اور اسلامی معاشرے کی خصوصیات کو بھی اجاگر کیا جاسکے۔ خدا نے دنیا میں جتنی بھی چیزیں بنا رکھی ہیں ہر چیز کی حد مقرر کر رکھی ہے اور یہ اسی حدود میں ہی اس کائنات کی خوبصورتی پوشیدہ ہے۔اور خدا کی بنائی ہوئی حد جب بھی کوئی چیز پھلانگتی ہے تو تباہی کا باعث بنتی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں بھی لباس کو لے کر کچھ رسم و رواج پایا جاتا ہےجو ہمارے پاکستانی ثقافت کی پہچان ہے۔ بدلتے فیشن نے ہماری ثقافت کر کہی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ہم اپنی پہچان کھوتے جارہے ہیں۔ اس لیے فیشن ٹرینڈز متعارف کروانے والوں کو اورفیشن ٹرینڈز اپنا نے والوں کو ان حدود کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز کا بھی دھیان رکھنا چاہیےکے کس ملک کے لیے متعارف کروا رہے ہیںاور ان ممالک کی کیا رسم و رواج ہیں۔ اس طرح بہت سے معاشرے تباہی کا شکار ہونے سے بچ جایے گے۔

مصنفہ کا تعارف
سیدہ ثناء بتول کاظمی ادارہ علومِ ابلاغیات جامعہ پنجاب کی فارغ التحصیل ہیں۔ آپ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔