مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت اور خدمات

ڈاکٹر خواجہ سید محمد یونس

مولانا محمد علی جوہر ،۱۰ دسمبر۱۸۷۸ئ؁کو اترپردیش رامپور میں پیدا ہوئے۔آپ نے ملک و قوم کے لئے بے پایاں خدمات انجام دی ہیں۔باحیثیت صحافی آپ انگریزی میں کامریڈ اور اردو میں ہمدرد نامی اخبارات شائع کرتے تھے ،مولانا صحافت کو مشن کے طور پر استعمال کیا اور مقصدی بنایا ۔ انھوں نے اس وقت کے حالات کوائف کا مشاہدہ و مطالعہ کیا اور قوم و ملک جن مسائل سے دوچار ہے اس کی بے باکی اور صداقت کے ساتھ اپنے اخباروں میں ترجمانی و عکاسی کی ہے ۔ مولانا نے ان اخبارات کے ذریعہ اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے ، اور صحافتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ ان خبارات کی تاریخ میں اھمیت ہے ۔ ان خبارات نے تاریخ ساز اور بے لوث خدمات انجام دئے ۔

مولانا نے ہمدرد و کامریڈ کو تحریک آزادی ، خلافت تحریک اور حریت کے جذبوں کو عام کرنے ،حصول آزادی کے لئے کوشش کاوش اور اسلامی مفکر اور اسلام کے داعی بنتے ہوئے ملک میںاسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ مولانا تاریخ میں اپنے بے مثال کارناموں کی وجہ سے بئت مقبول ہوئے ۔رئیس الاحرار کہلائے ۔ حر کے معنی آزادی کے ہیں ۔آزادی طلب کرنے والوں کے سردار کہلائے جاتے ہیں ان کا یہ قول تاریخی بن گیا اور کئی دلوں کی دھڑکن بن گیا ۔ جب وہ لندن میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے بعد یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلے کہ اگر میں وطن جائوں گا تو پروانہ آزادی یا نہیں تو موت ۔جب انکا انتقال ہوا تو ان کو فلسطین کی مقدس سر زمین میں سپرد لحد کیا گیا ۔ حریت و جذبہ آزادی کو عام کرنے کے لئے مولانا کسی سے پیچھے نہیں تھے ۔ بلکہ وہ غلامی کو ایک لمحہ کے لئے بداشت نہیں کرتے تھے ،آزادی ایک ایسا متوالا جس نے اپنے کردار سے گفتار سے ملک و قوم کو آزادی سے ہم کنارکرنے کی جدوجہد کی ۔ آخر ان کے کوششوں سے ملک کو آزادی ملی ۔

مولانا کو یہ یقین تھا کہ غلامی بہت بڑی بلا ہے ۔ آزادی سے ہمہ قسم ہمہ جہت ترقی ملک وقوم کو حاصل ہوگی مولانا قول و فعل کے پکے تھے ۔ اور عملی انسان تھے ،وہ صحافت سے وابستہ ہوئے تو وہاں بھی وہ انمٹ نقوش چھوڑے ۔ ہندوستانی صحافت کی تاریخ میں کامریڈ اور ہمدرد اپنے دور کے تقاضوں کے تحت مشملات شائع کرکے حکومت وقت کو اور عوام وملک کو بیدار کیا ۔ ان خبارات نے شعور بیداری اور غلامی سے نجات دلانے کا عملی شعور پیدا کیا ۔ باحیثیت صحافی انکی خدمات بے مثال نے نظیر اور کار گر ثابت ہوئی ۔ مولانا کی سیاست میں دانشمندی تھی وہ سیاست میں اخلاقی اقدار و پاسبانی کرتے تھے ۔ سیاست قوم کا بے لوث خدمت کا ذریعہ ہے ۔ انکی سیاست حکمت سے معمور تھی ، مولانامسلمانوں کی کھوئی ہوئی ساکھ اور ماضی کا احیاء کرنا چاہتے تھے ۔

ان ہی مسلمان کیا تھے اور کیا ہوگئے ۔ اس کا شدید احساس تھا اس لئے انھوں نے اسلامی تعلیمات افکار و فکر کوعملی حیثیت سے ہندوستان میں عام کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں کو انکا کھویا ہوا مقام حاصل ہوجائے ۔مولانا نے اسلامی تعلیمات افکار کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ صحافت و سیاست کو ایک موڑ سمت و ڈگر عطا کیا ۔ ہندستان کی سیاسی و صحافتی تاریخ میں انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ علی برادران نے خلافت تحریک کے ذریعہ آزادی کی تحریک کو تقویت عطا کی اور عالم میں جہاں جہاں مسلم حکومتیں معزول ہوگئیں انکے دوبارہ احیا ء و باز یافت کے لئے کوشش وکاوشیں کی گئیں اور اس سلسلے میں ہندوستانی قائدین و عمائددین کو اپنا ہمنوا بنایا ۔عالمی سطح پر مسلمانوں کے لئے آواز ہند سے اٹھی ،مولانا اچھے شاعر بھی تھے انھوں نے کئی ایک اصناف میں طبع آزمائی بھی کی ۔

انکے کلام میں داغ دہلوی کا رنگ بھی شامل ہے ۔ انکا شعر زبان زد خاص وعام ہے ۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد اسلامی تاریخ کا واقعہ کربلا اصل میں امام حسین و یزید کے درمیان حق و باطل کا معرکہ تھا ۔کربلا کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے ۔ جس نے عزیزوں و اقربا کے سامنے عزیز رشتے داروں کو شہید ہوتے دیکھا ہے ۔ تاریخ اسلام قربانیوں ،ایثار ، تحمل ، صبر پر مبنی ہے ،ہر کربلا کے بعد اسلام کا فروغ حاصل ہوتا ہے ۔ یعنی ہمارے پیغمبر رسول نے کیسی کیسی مصیبتیں و مشقتیں اٹھا کر اسلام کو ہم تک پہنچایا اور اب ہمارا کام ہے کی ہم اس پرمکمل عمل پیراں ہوکر اس کی وسعت اور ترقی کے لئے وقف ہوجائیں ۔ مولانا کی تعلیمی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ انھوں نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد انگلستان جاکر تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہاں آپ کے فکر کو تقویت ملی ۔ جب آپ واپس آئے آپ کو ر امپور ایجوکیشن ڈائرکٹر کی ذمہ داری دی گئی ۔مولانا نے اینگلو اورینٹل کالج کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لئے بڑی تگ ودو کی اور جامعہ کا درجہ دلایا ۔

مولانا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے تھے ۔ بہر حال مولانا ہمہ جہت ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ بیک وقت آپ صحافی ، صاحب طرز ادیب ، خطیب، سیاست داں مفکر اسلام ، اور شاعر تھے ۔ ایسی ہمہ جہت ہمہ گیر قومی خدمات انجام دینے والے محمد علی جوہر کو یاد کرنا قوم کا فریضہ ہے اور ۱۰دسمبر کو مر کزی و ریاستی حکومت اعلان کرے کہ اس دن مولانا محمد علی جوہر کو یاد کرکے ملک کے لئے ان کی قربانیوں کاوشوں کو خراج تحسین وخراج عقیدت پیش کرے ۔ان کے کارناموں کا اعتراف خاطر خواہ نہیں ہوا صرف انکے نام سے ایک یونیورسٹی قائم کرکے ہم نے حق ادا کردیا بلکہ صحیح حق تو تب ہوگا جب انکی تعلیمات و افکار کو حکومت کی جانب سے خراج عقیدت ادا ہو ۔اور قوم جوش و خروش کے ساتھ انکو یاد کرے ۔درج ذیل شعر انکی شخصیت پر صادق آتاہے ۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدور پیدا۔

مولانا نے ان اخبارات کے ذریعہ اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے ، اور صحافتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ ان خبارات کی تاریخ میں اھمیت ہے ۔ ان خبارات نے تاریخ ساز اور بے لوث خدمات انجام دئے ۔ مولانا نے ہمدرد و کامریڈ کو تحریک آزادی ، خلافت تحریک اور حریت کے جذبوں کو عام کرنے ،حصول آزادی کے لئے کوشش کاوش اور اسلامی مفکر اور اسلام کے داعی بنتے ہوئے ملک میںاسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ مولانا تاریخ میں اپنے بے مثال کارناموں کی وجہ سے بئت مقبول ہوئے ۔رئیس الاحرار کہلائے ۔ حر کے معنی آزادی کے ہیں ۔آزادی طلب کرنے والوں کے سردار کہلائے جاتے ہیں ان کا یہ قول تاریخی بن گیا اور کئی دلوں کی دھڑکن بن گیا ۔ جب وہ لندن میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے بعد یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلے کہ اگر میں وطن جائوں گا تو پروانہ آزادی یا نہیں تو موت ۔جب انکا انتقال ہوا تو ان کو فلسطین کی مقدس سر زمین میں سپرد لحد کیا گیا ۔

حریت و جذبہ آزادی کو عام کرنے کے لئے مولانا کسی سے پیچھے نہیں تھے ۔ بلکہ وہ غلامی کو ایک لمحہ کے لئے بداشت نہیں کرتے تھے ،آزادی ایک ایسا متوالا جس نے اپنے کردار سے گفتار سے ملک و قوم کو آزادی سے ہم کنارکرنے کی جدوجہد کی ۔ آخر ان کے کوششوں سے ملک کو آزادی ملی ۔ مولانا کو یہ یقین تھا کہ غلامی بہت بڑی بلا ہے ۔ آزادی سے ہمہ قسم ہمہ جہت ترقی ملک وقوم کو حاصل ہوگی مولانا قول و فعل کے پکے تھے ۔ اور عملی انسان تھے ،وہ صحافت سے وابستہ ہوئے تو وہاں بھی وہ انمٹ نقوش چھوڑے ۔ ہندوستانی صحافت کی تاریخ میں کامریڈ اور ہمدرد اپنے دور کے تقاضوں کے تحت مشملات شائع کرکے حکومت وقت کو اور عوام وملک کو بیدار کیا ۔ ان خبارات نے شعور بیداری اور غلامی سے نجات دلانے کا عملی شعور پیدا کیا ۔ باحیثیت صحافی انکی خدمات بے مثال نے نظیر اور کار گر ثابت ہوئی ۔ مولانا کی سیاست میں دانشمندی تھی وہ سیاست میں اخلاقی اقدار و پاسبانی کرتے تھے ۔ سیاست قوم کا بے لوث خدمت کا ذریعہ ہے ۔ انکی سیاست حکمت سے معمور تھی ، مولانامسلمانوں کی کھوئی ہوئی ساکھ اور ماضی کا احیاء کرنا چاہتے تھے ۔ ان ہی مسلمان کیا تھے اور کیا ہوگئے ۔

اس کا شدید احساس تھا اس لئے انھوں نے اسلامی تعلیمات افکار و فکر کوعملی حیثیت سے ہندوستان میں عام کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں کو انکا کھویا ہوا مقام حاصل ہوجائے ۔مولانا نے اسلامی تعلیمات افکار کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ صحافت و سیاست کو ایک موڑ سمت و ڈگر عطا کیا ۔ ہندستان کی سیاسی و صحافتی تاریخ میں انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ علی برادران نے خلافت تحریک کے ذریعہ آزادی کی تحریک کو تقویت عطا کی اور عالم میں جہاں جہاں مسلم حکومتیں معزول ہوگئیں انکے دوبارہ احیا ء و باز یافت کے لئے کوشش وکاوشیں کی گئیں اور اس سلسلے میں ہندوستانی قائدین و عمائددین کو اپنا ہمنوا بنایا ۔عالمی سطح پر مسلمانوں کے لئے آواز ہند سے اٹھی ،مولانا اچھے شاعر بھی تھے انھوں نے کئی ایک اصناف میں طبع آزمائی بھی کی ۔ انکے کلام میں داغ دہلوی کا رنگ بھی شامل ہے ۔ انکا شعر زبان زد خاص وعام ہے ۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد اسلامی تاریخ کا واقعہ کربلا اصل میں امام حسین و یزید کے درمیان حق و باطل کا معرکہ تھا ۔کربلا کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے ۔ جس نے عزیزوں و اقربا کے سامنے عزیز رشتے داروں کو شہید ہوتے دیکھا ہے ۔ تاریخ اسلام قربانیوں ،ایثار ، تحمل ، صبر پر مبنی ہے ،ہر کربلا کے بعد اسلام کا فروغ حاصل ہوتا ہے ۔

یعنی ہمارے پیغمبر رسول نے کیسی کیسی مصیبتیں و مشقتیں اٹھا کر اسلام کو ہم تک پہنچایا اور اب ہمارا کام ہے کی ہم اس پرمکمل عمل پیراں ہوکر اس کی وسعت اور ترقی کے لئے وقف ہوجائیں ۔ مولانا کی تعلیمی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ انھوں نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد انگلستان جاکر تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہاں آپ کے فکر کو تقویت ملی ۔ جب آپ واپس آئے آپ کو ر امپور ایجوکیشن ڈائرکٹر کی ذمہ داری دی گئی ۔مولانا نے اینگلو اورینٹل کالج کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لئے بڑی تگ ودو کی اور جامعہ کا درجہ دلایا ۔ مولانا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے تھے ۔ بہر حال مولانا ہمہ جہت ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ بیک وقت آپ صحافی ، صاحب طرز ادیب ، خطیب، سیاست داں مفکر اسلام ، اور شاعر تھے ۔ ایسی ہمہ جہت ہمہ گیر قومی خدمات انجام دینے والے محمد علی جوہر کو یاد کرنا قوم کا فریضہ ہے اور ۱۰دسمبر کو مر کزی و ریاستی حکومت اعلان کرے کہ اس دن مولانا محمد علی جوہر کو یاد کرکے ملک کے لئے ان کی قربانیوں کاوشوں کو خراج تحسین وخراج عقیدت پیش کرے ۔ان کے کارناموں کا اعتراف خاطر خواہ نہیں ہوا صرف انکے نام سے ایک یونیورسٹی قائم کرکے ہم نے حق ادا کردیا بلکہ صحیح حق تو تب ہوگا جب انکی تعلیمات و افکار کو حکومت کی جانب سے خراج عقیدت ادا ہو ۔اور قوم جوش و خروش کے ساتھ انکو یاد کرے ۔درج ذیل شعر انکی شخصیت پر صادق آتاہے ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدور پیدا۔