عورت مارچ: تحریر ثناء بتول کاظمی

عورت مارچ!
یہ پہلی مرتبہ نہ تھا جب اس نے مجھے جانواروں کی طرح مارا پیٹا تھاپر ہاں اس مرتبہ اس نے طلاق نامے کے ساتھ مجھے گھر روانہ کیا تھاگھر والے جانتے تھے کے باپ وہ نہیں بن سکتا تھا پر پھر بھی بھابھی مسلسل میرا قصور نکال رہی تھیں ، میرے بھائی میں کوئی عیب نہیں کمرے میں تینوں بھائی موجود تھے پر کسی کو میرے سر سے رستا خون تک نہ نظر آیا!
میں صبر کر کے اپنے کمرے میں چلی آئی، برے دور کا تو آغاز ماں باپ کی وفات کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھااور پھر بھا بھی کے کہنے پر بھائی نے مجھے نویں جماعت سے سکول سے اٹھا لیا تھاان کا کہنا تھا کے پڑھ لکھ کر لڑکیاں منہ زور ہوجاتی ہیں ۔ میں اپنے تین پڑے لکھے بھائیوں کی اکلوتی ان پڑھ بہن ہوں!
دن رات محنت و مشقت کر کے بھی پیٹ بھر روٹی نہ ملتی۔ ایک آدھ مرتبہ بھا ئیوں سے کہنے کی کوشش بھی کی، پر بے سود گیا۔ پاب کے اس عا لیشان کے گھر میں نیند بھی میسر نہ تھی!
کچھ عرسے بعد جب دوسرے بھائی کی شادی ہوئی تو چھوٹی بھابی کر میرا وجود ہی اس کھر میں گوارا نہ تھا ۔
دن رات کی ذلت سے زندگی مزید بوج لگنے لگی ۔ مو قعے کا فائدہ اٹھا تے ہوئے بڑی بھابی نے اپنے طلاق یافتہ بھائی سے میری شادی کروادی اور زندگی کے مزید برے دن شروع ہوگئے۔
ابھی مجھے واپس آئے ہوے ایک ہفتہ نہ گزرا تھا کے بھائیوں کو جائیداد میں سے حصہ دینے کی فکر لاحق ہو گئی اور اب تو اکثر بھائیوں کے ہاتھوں بھی تزلیل اٹھانا پڑتی! تیسرے نمبر کے بھائی کی بیوی نے اپنے بھائی کو گھر بلا کر رکھنا شرع کر دیا ۔ ایک دن اس نے مجھ پر جھپٹنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے شور مچایا تو تینوں بھابیوں نے ایسا منظر نامہ کھینچا کے مجھے اپنی ذات سے گھن آنے لگی ۔ بھائیوں نے جائیداد میں سے حصہ نہ دینا پڑے اس لئے موقع غنیمت جانا اور مار پیٹ کر مجھے گھر سے نکال دیا۔
نہ سر پر آسمان تھا نہ پیروں تلے زمین تھی، میں بے یارومدد گار سڑک پر چلنے لگی تو کچھ ہی دور بھیڑ دیکھی ، پاس جانے پر معلوم ہوا آج عورتوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے! عورت مارچ چل رہی ہے!!!
لیکن اس مارچ میں موجود کچھ نعروں کو دیکھ کر سوال پیدا ہوا؟
ہمارے معاشرے میں عورت جن درپیش مسائل سے دوچار ہے ان میں تعلیم،جنسی ہراسا ں کرنا،وراثتی مسائل اور یکساں حقوق کی فراہمی ہیں یا اپنا کھانا خود گرم کرو، لو بیٹھ گئی صحیح سے ، اگر ڈوپٹہ اتنا پسند ہے تو ٓآنکھوں پر باندھ لو؟؟
اگر عورت مارچ ناگزیر ہی ہے تو ان مسائل کی نشاندہی کرنی چاہیے جو ایک خاتون کو روزانہ کی بنیاد پر درپیش ہوتے ہیں
لیکن ابھی تصویر کا ایک رخ باقی ہے ، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں سے کثرت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن کیا کسی نے وہاں جا کر کسی مثبت پوسٹ کارڈ پر بھی نظر دوڑائی، جیسے جائیداد میں شرعی حق ، تعلیم اور صحت کا حق، لیکن کیونکہ سوشل میڈیا پر منفی چیزیں تیزی سے پھیلتی ہیں اس لیے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے متنازعہ پے کارڈز کو ہی وائیرل کیا، جو بہت سی خواتین کے لیے بھی تکلیف دے تھے۔ سوشل میڈیا پر کسی بابت فیصلہ کرنے سے پہلے تصویر کے دونوں رخ دیکھنا ناگزیر ہیں۔