بی جی پی کے رکن سابق بھارتی کرکٹر کے خلاف مقدمہ درج

دہلی: کرکٹ کے بعد سیاست میں آنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن گوتم گمبھیر کے خلاف بغیر اجازت کے سیاسی ریلی نکالنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی ہدایت پر نئی دہلی پولیس نے گوتم گمبھیر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ بی جے پی میں حال ہی میں شامل ہونے والے سابق کھلاڑی نے 25 اپریل کو دہلی کے علاقے جنگ پورا میں ریلی کے لیے اجازت نہیں لے کر ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بی جے پی حکومتی پالیسی کے حامی گوتم گمبھیر کو پارٹی کے سینئر رہنما ارن جیٹلی کی جانب سے پارٹی میں خوش آمدید کہا گیا تھا۔

کرکٹ سے سیاست میں آنے والے گوتم گمبھیر نے ایسٹ دہلی سے بی جے پی کے امیدوار مہیش گری کی جگہ لی تھی اور ان کا مقابلہ کانگریس کے اروندر سنگھ لولی اور اے اے پی کے اہم امیداور اتیشی سے ہے۔

دوسری جانب اتیشی نے 37 سالہ سابق کرکٹر پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’پہلے کاغذات نامزدگی میں تضادات، پھر 2 ووٹرز آئی ڈیز رکھنے کا جرم اور اب غیر قانونی طور پر ریلی نکالنے پر ایف آئی آر پر میرا گوتم گمبھیر سے سوال ہے کہ جب قوانین پتہ نہ ہوں تو کھیل کیوں کھیلتے ہو؟

ادھر اتیشی کی جانب سے دائر درخواست میں الزام لگایا گیا کہ گوتم گمبھیر نے کاغذات نامزدگی میں اپنی غلط معلومات فراہم کی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوتم گمبھیر دہلی کے کارول باغ سمیت رجندر نگر میں بھی رجسٹرڈ ووٹر ہیں جبکہ دونوں نشستیں سینٹرل دہلی پارلیمانی نشست کے تحت آتی ہیں، اس درخواست پر کیس کی سماعت یکم مئی کو ہوگی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق کھلاڑی دہلی میں امیر ترین امیدواروں میں سے ایک ہیں، جن کی سالانہ آمدنی 12 کروڑ روپے سے زائد ہے۔

گوتم گمبھیر ایسٹ دہلی میں جس نشست سے انتخابات لڑ رہے ہیں وہاں اور نئی دہلی کی باقی 5 نشستوں پر 12 مئی کو انتخابات ہوں گے، جس کے نتائج 23 مئی کو آئیں گے۔

نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز بھارت کے لیے 2 کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے انڈین پریمیئر لیگ میں بھی اپنے کلب کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے اسے دو بار فتح دلائی ہیں۔