کشمیری نوجوان کو’انسانی ڈھال‘ بنانے والے بھارتی فوجی افسراپنے انجام کو پہنچا

اپریل 2017 میں بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں ایک کشمیری نوجوان کو ’انسانی ڈھال‘ بنانے والے بھارتی فوج کے افسرمیجرلیتل گوگوئی کو ایک خاتون کے ساتھ دوستی رکھنے اور ڈیوٹی سے غائب رہنے کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنا دی گئی۔

خیال رہے کہ اپریل 2017 میں میجر لیتل گوگوئی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ انہوں نے ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ کے آگے باندھ کر ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر استعمال کیا تھا۔

میجر لیتل گوگوئی نے 2017 میں کشمیری نوجوان کو انسانی ڈھال بنایا تھا—اسکرین شاٹ

نوجوان کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کرنے کے واقعے کے بعد اگرچہ میجر لیتل گوگوئی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم ان کے خلاف فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

اس واقعے کے خلاف جہاں جموں و کشمیر کے عوام میں غم و غصہ پایا گیا تھا، وہیں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے عالمی و مقامی تنظیموں نے بھی اس عمل کی مخالفت کی تھی اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا۔

بعد ازاں میجر لیتل گوگوئی کے خلاف ایک اور شکایت سامنے آنے کے بعد فوج نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

2018 کے آغاز میں ہی میجر لیتل گوگوئی کے حوالے سے خبر سامنے آئی تھی کہ انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک ہوٹل مالک کے ساتھ جھگڑا کرنے پر گرفتار کرلیا گیا۔

بعد ازاں ان کے خلاف تفتیش میں حیران کن انکشافات سامنے آئے، جن کے تحت میجر لیتل گوگوئی ہوٹل میں ایک مقامی لڑکی کے ساتھ کمرا حاصل کرنا چاہتے تھے، تاہم وہ ہوٹل انتظامیہ کو اپنا شناختی کارڈ دکھائے بغیر یہ سہولت حاصل کرنا چاہتے تھے۔

ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے شناختی کارڈ کے بغیر ہوٹل کا کمرا دینے معذرت کیے جانے کے بعد میجر لیتل گوگوئی نے ہوٹل انتظامیہ سے توہین آموز رویہ اختیار کیا تھا۔

ہوٹل انتظامیہ کی شکایت کے بعد انہیں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا اور بعد ازاں ان کے خلاف فوج نے بھی تحیقات کا آغاز کیا تھا اور ان کا کیس فوج کی کورٹ مارشل میں چلایا گیا تھا۔

اگست 2018 میں میجر لیتل گوگوئی پرکشمیر کی ایک مقامی خاتون سے تعلقات استوار کرنے، اپنی ڈیوٹی اسٹیشن سے غیر حاضر رہنے اور آپریشنل علاقے میں لوگوں سے میل جول رکھنے جیسے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

میجر لیتل گوگوئی نے 2017 میں کشمیری نوجوان کو انسانی ڈھال بنایا تھا—اسکرین شاٹ
اور اب انہیں کشمیر میں ایک خاتون سے تعلقات استوار کرنے اور اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے جیسے الزامات کے تحت سزا سنائی دی گئی۔

انڈیا ڈاٹ کام نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ میجر لیتل گوگوئی کو کورٹ مارشل کے تحت سزا سنائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق فوجی عدالت نے انہیں فوج کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر 6 ماہ تک میجر کے عہدے سے معطل کردیا جب کہ ان کا جموں و کشمیر سے ٹرانسفر بھی کردیا گیا۔

میجر لیتل گوگوئی کو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے باہر بھیج دیا گیا—فائل فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام

رپورٹ میں بتایا گیا کہ میجر لیتل گوگوئی کے یونٹ کمانڈر کو انہیں مار کی سزا دینے کا اختیار بھی دیا گیا۔

کورٹ مارشل کے تحت سزا دیے جانے کے بعد میجر لیتل گوگوئی کو فوری طور پر کشمیر سے باہر بھیج دیا گیا جب کہ ان کے ڈرائیور کو بھی ان کا شریک مجرم قرار دے کر انہیں سزا سنائی گئی۔

میجر لیتل گوگوئی کے ڈرائیور پر الزام تھا کہ انہوں نے ہی انہیں مقامی خاتون سے تعلقات استوار کرنے اور ان سے ملاقاتوں کے لیے سہولت فراہم کی۔