پاکستان نےبرادر اسلامی ملک سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا

پاکستان نے لیبیا میں خانہ جنگی کی وجہ سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا

وزرات خارجہ نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں تازہ ترین پرتشدد لڑائی کے پیش نظر سفارتی عملے اور ان کے اہلخانہ کو وطن واپس بلا لیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ’پاکستان لیبیا میں ہونے والی نئی پیش رفت کا باغور جائزہ لے رہا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’لیبیا میں موجوہ زمنی حقائق کی روشنی میں شہریوں کی سیکیورٹی اور ان کے تحفظ کی وجہ سے طبرابلس میں پاکستان کے سفارتی عملے اور ان کے اہلخانہ کو واپس بلالیا گیا۔

لیبیا میں موجود پاکستانی باشندوں کو خصوصی ہدایت جاری کردی گئی ہیں کہ وہ جنگ زدہ علاقوں سے دور رہیں‘۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ’لیبیا میں موجود پاکستانی شہریوں کو سفارتخانے میں اپنی رجسٹریشن کرانے کی بھی ہدایت کردی گئی‘۔

عالمی میڈیا کے مطابق 24 اپریل کو طرابلس میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری لڑائی میں کم ازکم 264 افراد ہلاک اور 12 سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا تھا کہ لیبیا میں ہلاکتوں کی تعداد 264 سے تجاوز کرگئی اور حالات بدستور خراب ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے ٹویٹر میں جاری اپنے پیغام میں دونوں فریقین سے جارحیت کو روک کر انسانی قانون کے احترام کا مطالبہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ شمالی حصے پر قابض خلیفہ حفتر نے 4 اپریل کو اپنے لیبین نیشنل آرمی نے عالمی طور پر تسلیم دارالحکومت ٹریپولی کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی۔

عالمی طور پرتسلیم طرابلس کی حکومت اور اسکی نیشنل کارڈ (جی این اے) نے دفاعی کارروائیوں کا آغاز کردیا تھا جس کے بعد دونوں اطراف سے حملوں کو سلسلہ بدستور جاری ہے جو اب دوسرےمرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی رابطہ کار ماریا ربیریو نے کہا کہ طرابلس کے جنوب میں جاری لڑائی میں اب تک 35 ہزار سے زائد بے گھر ہوچکے ہیں۔