سری لنکا حملوں کے تانے بانے بھارت سے جاملے

سری لنکا میں ہونے والی بدترین دہشت گردی کے تانے بانے پڑوسی ملک بھارت سے ملنے لگے جس کا اعتراف سری لنکا کے تفتیشی حکام نے بھی کرلیا۔

خیال رہے کہ 21 اپریل کو کولمبو میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس شخص نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی اس کا نام ظہران ہاشم ہے اور وہ نیشنل توحید جماعت کا رہنما ہے۔

ایک اعلیٰ فوجی حکام نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ظہران ہاشم نے جنوبی بھارت میں کافی عرصہ گزارا ہے۔

تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ داعش کی جانب سے حملہ آوروں کی جو تصاویر جاری کی گئی تھیں ان میں ممکنہ طور پر ظہران ہاشم بھی موجود ہے۔

سری لنکن تفتیش کاروں نے بتایا کہ ‘ان تصاویر میں ایک خاتون سمیت 9 دہشتگردوں کی شناخت کی گئی ہے، ہمیں شبہ ہے کہ دہشتگرد نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جنہیں بھارتی ریاست تامل ناڈو میں تربیت دی جاتی ہے۔’

ادھر بھارتی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ظہران ہاشم کے 100 سے زائد پیروکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

سری لنکن حکام نے 9 حملہ آوروں کے نام تو نہیں بتائے لیکن یہ ضرور بتایا ہے کہ ہوٹل شنگریلا میں حملہ کرنے والا دہشت گرد ممکنہ طور پر ظہران ہاشم ہی تھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہاشم سری لنکا کے مشرقی صوبے میں ایک مذہبی گروہ کی سربراہی کرتا تھا جبکہ مقامی افراد بھی اس کی ان سرگرمیوں سے خوش نہیں تھے۔

ایک مقامی رہنما نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ ظہران ہاشم 2 برس قبل یہ علاقہ چھوڑ گیا تھا۔

ایک روز قبل سری لنکا کے وزیراعظم متھری پالا سری سینا نے دہشت گردی سے نمٹنے اور اسے شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خانہ جنگی کے ادوار کی تحقیقات کی وجہ سے ملک میں سیکیورٹی ادارے کمزور ہوئے جن کی وجہ سے دہشت گرد اتنے بڑے حملے کرنے کے قابل بنے۔

مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ملکی اداروں کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کی شیئرنگ میں فقدان نے بڑا نقصان پہنچایا جبکہ نائب وزیر دفاع اور انسپکٹر جنرل پولیس اس کے ذمہ دار ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں بم دھماکوں کی ذمہ داری عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

داعش کی اعماق نیوز ایجنسی نے حملوں کا تعلق داعش کے دہشت گردوں کے ساتھ جوڑنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم دہشت گرد تنظیم نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔