اسد عمر کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے آ گئیں

اسلام آباد(طارق بٹ/صالح ظافر)عمران خان ، وفاقی وزیر خزانہ کے استعفیٰ اور بعض وفاقی وزرا کے قلمدانوں میں رد و بدل میں سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے، رائے عامہ کے تجزیے اور تبصروں میں وزیر خزانہ کو ہٹانے کے بارے میں مختلف تجزیے اور تبصروں کا ایک طوفان امڈ آیا، کہا جاتا ہے کہ عمران خان 6سال سے کہہ رہے تھے تیاری کرو‘ وزیر خزانہ بننے پرکورے نکلے۔کابینہ کی اکثریت ان کی ایمنسٹی اسکیم کی مخالف‘ترقی میں کمی‘قیمتوں میں اضافہ ‘روپے کی قدر میں کمی،اسد عمر کے دور میں معاشی سست روی، فیصلہ نہ کرنا ، غیر یقینی اور اضطراب عروج پر رہا۔اسد عمر کی وجہ سے قوم کو پانچ سو ارب کا نقصان‘ حکمت عملی کا پی ٹی آئی نظریئے سے تعلق نہیں تھا۔آئی ایم ایف کیوجہ سے خفت کا سامنا ہوا‘اسد عمر نے پیکج ڈیل کا اعلان کیا ، فنڈ نے تردید کردی۔عمران کو قدم قدم پر شرمندگی‘یوٹرن فلسفے کی تائید کرنا پڑی‘برطرفی پارٹی کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ،جو ڈاکٹر مریض کو آئی سی یو سے جنرل وارڈ لایا ،وہ عہدے سے ہٹادیا

گیا‘اسد عمر کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹائے جانے کی متعدد وجوہات اور محرکات ہیں، جس میں سب سے اہم یہ حکومتی اعتراف ہے کہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں تھے اور ان کی کارکردگی میں کسی قسم کی امید نہیں تھی۔پہلی بات یہ ہے کہ اس تبدیلی کا وقت بہت اہمیت کا حامل ہے، جس نے پاکستان کو ایک مشکل صورتحال میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔فی الوقت ، وفاقی بجٹ کی تیاریاں ہورہی ہیں ، آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف سے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔عام طور پر ایسی صورتحال میں وزیر خزانہ کو عہدے سے ہٹائے جانے سے اجتناب کیا جاتا، کیوں کہ اس کی وجہ سے ایک منفی تاثر قائم ہوگالیکن وزیر اعظم عمران خان نے اسد عمر کو عہدے سے ہٹانے میں دیر نہیں کی۔دوسری یہ بات کہ ایک معروف ٹی وی اینکر نے رات 8بج کر 41منٹ پر ٹوئٹ کی کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا نام وزیر خزانہ کے طور پر سامنے آرہا ہے، جس کا فیصلہ آرمی چیف کی وزیر اعظم سے ملاقات میں کچھ دیر قبل ہی کیا گیا ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ وفاقی اور سندھ کی سطح پر پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔تیسرا ، اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے حکومت اس انکار کی کیفیت سے باہر آگئی ہے کہ سب کچھ اچھا چل رہا ہے، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتی تھی اور بہت سی باتیں پریشان کن ہیں۔یہ اعتراف کیا جاچکا ہے کہ ایک بدترین صورتحال خاص طور پر اقتصادی میدان میں سرایت کرچکی ہے۔پی ٹی آئی کی نجات دہندہ کی حیثیت کو داغ لگ چکا ہے۔پی ٹی آئی دور حکومت کے ابتدائی 8ماہ میں بے تحاشہ غلطیاں کی گئی ہیں ، جس میں سب سے بڑی غلطی عہدے سے سبکدوش ہونے والے وزیر نے اقتصادی میدان میں کی تھی۔پانچویں بات اسد عمر کی بے دخلی عمران خان کے لیے بہت بڑا دھچکہ ہے ۔اسد عمر کی قابلیت پر کبھی اتنے سوالات نہ اٹھتے ، جیسا کہ ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اٹھ رہے ہیں۔چھٹی بات، اسد عمر کی فیصلہ نہ کرنے کی صلاحیت ، معیشت میں سست روی ، غیر واضح اور بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے کاروباری افراد اور اسٹاک مارکیٹ نے نہ صرف عدم اعتما د کا مظاہرہ کیا بلکہ وہ اس دوران گومگو کی کیفیت میں بھی رہے۔ساتویں بات، پی ٹی آئی میں واحد اسد عمر تھے جو وزیر خزانہ بن سکتے تھے ۔ان کے بعد اتنی صلاحیت کا حامل کوئی شخص نہیں ہے جو اس عہدے پر آئے یا پھر انہیں کسی دوسری جماعت سے وزیر خزانہ لینا ہوگا۔آٹھویں بات یہ کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے کئی برس قبل ہی اسد عمر کا انتخاب کرلیا تھا ۔آٹھ سال تک عمران خان، اسد عمر کو پاکستان کے اقتصادی بحران کا نجات دہندہ بنا کر پیش کرتے رہے اور آٹھ ماہ میں ہی وہ اپنے ہی جواب سے مطمئن نہیں ہیں۔عمران خان ہمیشہ ہی یہ کہتے رہے ہیں کہ ٹیم اگر نتائج نہ دے تو ذمہ دار کپتان ہوتا ہے۔نویں بات، حکومت یہ بات دہراتی رہی کہ اسے اقتصادی بدحالی ورثے میں ملی ہے ، جسے وہ سدھارنا چاہتی ہے۔لیکن اسد عمر کے ساتھ اسے اس میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔دسویں بات ، اقتصادی میدان میں بار بار ناکامی کی وجہ سے وزیر اعظم اور حکومت کو سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ۔گیارویں بات، چاہے یہ مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ہو ، ترقی میں کمی ، بڑھتی ہوئی قیمتیں ، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی یا آئی ایم ایف سے بات چیت ہر جگہ چہ مگوئیا ں جاری تھیں ، یہاں تک کے کابینہ اجلاسوں میں بھی سخت تنقید ہوتی تھی۔اس میں ایمنسٹی اسکیم تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی اور اسد عمر کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔بارہویں بات ، ایمنسٹی اسکیم میں غلطیاں ہوسکتی ہیں ، جسے ختم کیا جاسکتا ہے ، تاہم کچھ وزرا اسے اسد عمر پر تنقید کا اچھا بہانہ سمجھ رہے ہیں۔جو وزرا اس اسکیم پر سخت تنقید کررہے ہیں ، وہ معیشت کا تھوڑا علم بھی نہیں رکھتے۔تیرہویں بات ، آٹھ ماہ کے اندر اسد عمر نے تین منی بجٹ پیش کیے ، جس سے معاشرے کی کسی بھی اکائی کو اعتماد نہیں ملا اور کم ٹیکس ادائیگیاں ہوئیں۔چودہویں بات، ہر اقتصادی اشاریے نے منفی رجحان کا عندیہ دیا ۔بے سمت پالیسیوں کی وجہ سے روال مالی سال کے دوران 450ارب روپے کے ٹیکس محصولات کی کمی کا امکان ہے۔پندرہویں بات، پی ٹی آئی کا اندرونی خلفشار اسد عمر کو عہدے سے ہٹائے جانے کی اہم وجہ ہے۔یہ کوئی خفیہ بات نہیں ہے کہ پی ٹی آئی میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی سربراہی میں دو گروپس ہیں۔اسد عمر کا شمار شاہ محمود قریشی کے گروپ میں ہوتا ہے۔ان کو عہدے سے ہٹائے جانے میں جہانگیر ترین کا اہم کردار ہے۔سولہویں بات، جب اقتصادی میدا ن میں ذرا بھی بہتری نہیں تھی ، معاشی بحران کی وجہ سے وزیر اعظم کو مسلسل ندامت کا سامنا کرنا پڑرہا تھا ، جب کچھ کابینہ ارکان اسد عمر پر تنقید کررہے تھے اور سب سے اہم جب جہانگیر ترین نے وزیر خزانہ کو غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تو کپتان کا صبر ختم ہوگیا اور انہوں نے اسد عمر کو عہدے ہٹادیا۔سترہویں بات، سوال یہ ہے کہ کیا وزیر خزانہ کی تبدیلی اقتصادی بہتری کا سبب ہوگی ؟ اس کا جواب نفی میں ہے کیوں کہ حقائق جوں کے توں ہیں اور کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لیے ایک ماہر ناخدا کی ضرورت ہے۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس ایسا اعلیٰ ذہنوں کی کمی ہے، حالاں کہ عمران خان ہمیشہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ان کے پاس ایسی ٹیم ہے جو اپنی دوراندیشی اور منصوبہ بندی سے معجزات کرسکتی ہے۔اٹھارہویں بات، اسد عمر کے عہدے سے ہٹائے جانے سے اس بات کا اعتراف بھی کرلیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے مسائل سے نمٹنے کی کوئی تیاری نہیں کی تھی۔انیسویں بات، ’’ڈاکٹر‘‘ اسد عمر جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ معیشت کو آئی سی یو سے نکال کر جنرل وارڈ میں لے آئے ہیں ، یہ دعویٰ مسترد ہوچکا ہے۔بیسویں بات، اسد عمر کو ہٹائے جانے سے پی ٹی آئی کے حوصلے پست ہوں گے نہ صرف ان کی رخصتی سے بلکہ ان کی جانب سے پیدا کردہ معاشی بحران کی وجہ سے بھی ہوں گے۔اکیسویں بات، عمران خان بار بار یہ کہتے رہے کہ اگر قیادت اچھی ہو تو ہر چیز درست سمت میں جاتی ہے، تاہم یہ غلط ثابت ہوگیا۔بائیسویں بات، اسد عمر نے مستعفی ہونے کے بعد اکیلے ہیں پریس کانفرنس کی اور کوئی بھی حکومتی وزیر یا پی ٹی آئی رہنما ان کے ساتھ نہیں تھا۔تیئسویں بات، جب کسی بھی ٹیم کا سب سے بہترین کھلاڑی بغیر کوئی رن بنائے آئوٹ ہوجائے ، جو کہ اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کراسکتا تھا ، کیا یہ پوری ٹیم کو ایک ایک کرکے عیاں نہیں کردے گا؟چوبیسویں بات، اسد عمر کو عہدے سے ہٹانے کے بعد حکومت کچھ وقت کے لیے یہ سوچے گی کہ اس طرح کے استعفوں کو مسترد کرنا اس کے لیے باعث شرمندگی ہوگا ۔پچیسویں بات، اینکرز، صحافی اور معروف شخصیات نے وزیر خزانہ کو عہدے سے ہٹائے جانے پر سوشل میڈیا پر ردعمل دیا ہے ۔14ٹویٹس استعفیٰ کےلیے تھیں جب کہ 16اس کے مخالفت میں تھیں۔یہ کہا گیا کہ اسد عمر کی علیحدگی، وزیر اعظم کا ایک بڑا فیصلہ ہے ، جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ مخلصی کے ساتھ بہتری کی کوشش کررہے ہیں اور وہ خطرات مول لینے سے نہیں گھبراتے۔ وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے اسد عمر کے استعفیٰ اور بعض اہم وفاقی وزراء کے قلمدانوں میں ردوبدل نے ملک بھر کے سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ رائے عامہ کے تجزیوں اور تبصروں میں ان تبدیلیوں کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ حزب اختلاف نے مجموعی طور پر اسے حکومت کی مکمل ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے قریبی رفیق کار اور انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ سید اعجاز شاہ کا تقرر اور شہریار خان آفریدی کی وزارت داخلہ سے بے دخلی، اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر فواد حسین چوہدری کی رخصتی اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے وزارت سپرد ہونے اور اعظم خان سواتی کی وفاقی کابینہ میں واپسی بہت اہم اور توجہ طلب تبدیلیاں ہیں لیکن اسد عمر سے باوقار انداز میں استعفیٰ لے کر ان کی جگہ پیپلزپارٹی کے دور میں رہے اور سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ کا بطور مشیر خزانہ تقرر غیرمعمولی دلچسپی کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ وزارت خزانہ میں رونما ہوتی تبدیلی کے ضمن میں تبصرے اور قیاس آرائیاں رات تک زوروں پر رہیں جن میں عمر ایوب خان، ڈاکٹر سلمان شاہ، حفیظ پاشا، شوکت ترین، شمشاد بیگم، ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر اشفاق حسن کا نام لیا جاتا رہا کہ انہیں اسد عمر کی جگہ خزانے کا قلمدان سونپا جائے گا۔ یہ بحث ڈاکٹر حفیظ شیخ کے تقرر سے اختتام پذیر ہوئی۔ حزب اختلاف کے رہنمائوں کا اصرار ہے کہ حکومت نے اپنی ناکامی اور نااہلی کا اعتراف کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کے لئے مہارت اور لیاقت کا استعارہ سمجھے جانے والے اسد عمر کی بے نیل و مرام علیحدگی اس پارٹی کے خالی الذہن ہونے کا ثبوت ہے۔ دوسری جانب حکومتی طرفداروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے ثابت کرتے ہیں کہ عمران خان میں جرات مندانہ فیصلے کرنے کا ملکہ بدرجہ اتم موجود ہے، وہ اپنے دبنگ فیصلوں سے خرابیوں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خرابی سے اچھائی پیدا کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ دن بھر جاری رہنے والے تبصروں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ تحریک انصاف میں دو،ڈھائی سال سے دو گروپس باہم طبع آزما تھے ایک کی قیادت جہانگیر ترین جب کہ دوسرے کی زمام، شاہ محمود قریشی کے ہاتھ میں ہے۔ ان گروپس میں تصادم نکتہ عروج کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اسد عمر، جہانگیر ترین کے حریف گروپ سے منسلک ہیں۔ اس گروپ کا استدلال ہے کہ اسد عمر کی حکمت عملیاں بڑی بڑی کثیرالقومی کمپنیوں، شوگر ملوں اور ٹیکسٹائل ملز کے مفادات کے محور میں بنائی جاتی ہیں، ان کا تحریک انصاف کی معاشی حکمت عملی سے واجبی تعلق بھی نہیں ہوتا۔ بتایا گیا ہے کہ ماضی میں کم ہی کسی منتخب حکومت میں خزانے و اقتصادی امور کی وزارت پر پورے پانچ سال تک کسی ایک وزیر کی دسترس رہی ہو۔ پیپلزپارٹی نے مخدوم شہاب الدین، شوکت ترین، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا کو اس منصب کے لئے آزمایا۔ اسی طرح نواز شریف کے عہد میں سرتاج عزیز اور اسحاق ڈار کو موقع فراہم کیا جاتا رہا۔ ٹیکنو کریٹس کو بھی آزمانے میں عار محسوس نہیں کی گئی۔ اسد عمر کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مشکل حالات میں ملی تھی۔ مالیاتی خسارہ عروج پر تھا۔ اس فیصلے سے کاروباری طبقے کا اعتماد بڑھے گا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ تحریک انصاف میں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آیا جو معیشت کو اسد عمر سے بہتر طور پر سمجھ سکے یا ان کا متبادل بن سکے یہی وجہ ہے کہ ان کے جانشین کی تلاش ’’باہر‘‘ سے کی جا رہی ہے۔ اس پورے معاملے میں خزانے کے وزیر مملکت حماد اظہر کا کسی نے نام نہیں لیا ۔ ایک رائے یہ تھی کہ حکمت عملی کوئی ایک شخص حکومت کے لئے نہیں بناتا، اسد عمر پر انگشت نمائی کرنا درست نہیں ہوگا۔ اسد عمر کا رخصت ہو جانا عمران خان کے لئے ایسے ہی ہوگا جیسے پاکستان کی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے لئے جارہی ہو اور اس میں سے بابر اعظم کانام خارج کردیا جائے ۔ اسد عمر تحریک انصاف کا چہرہ تھے اور اس کے آسمان کا روشن ستارہ تھے اس کے اوپننگ بلے بازتھے ان کی جگہ جو بھی وزیر خزانہ آئے گا مشکل سےدوچار رہےگا۔ مبصرین کا کہناتھا کہ اسدعمر نہ صرف عمران خان بلکہ اپنے کابینائی رفقا کار اور جہانگیر ترین جیسے تحریک انصاف کے صف اول کے رہنما کا اعتماد کھو بیٹھے تھے جن حلقوں کو تحریک انصاف کا موئید اور ہمدرد تصور کیا جاتاتھاوہ بھی اسد عمر کےبارے میں ہچکچاہٹ میں مبتلا ہوگئے تھے معاشی لحاظ سے عمران کی حکومت کاتاثر بری طرح مجروح ہوگیاتھا کالے دھن کو سفید کرنے کےجس مسودہ قانون کو اسد عمر نے مرتب کیاتھا کابینہ کے ارکان کی اکثریت اس کے خلاف صف آرا ہوگئی جسے بادل نخواستہ عمران خان نے بھی مسترد کردیا یہ دستاویز تحریک انصاف کے لئے دھچکا ثابت ہوئی عمران خان کا گلہ تھا کہ اسد عمر کو چھ سال سے تحریک انصاف کی حکومت بننے کی صورت میں بطور وزیر خزانہ بنائے جانے کا اعلان کیا جاتا رہا لیکن انہوں نے اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے خاطر خواہ تیاری ہی نہیں کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے حوالے سے بھی ان کا تذبذب ناقابل فہم تھا ان کیو جہ سے تحریک ا نصاف اور اس کی حکومت کا تاثر بہت بگڑا۔ عمران خان کے لئے یہ تسلیم کرنا از حد دشوار تھا کہ اسد عمر وہ کھلاڑی ہیںجو ڈلیور نہیں کرسکیں گے بدقسمتی سے وہ بہت جلد آئوٹ ہوگئے۔ ان کی کارکردگی میں بے شمار سقم رہے۔ اس رائے کا بھی اظہار ہوتا رہا کہ اسدعمر کے سلسلےمیں فیصلہ کرنے میں تاخیر کی گئی عمر ان خان اور اسد عمر دو نوں عوام کی توقعات پر پورا نہیںاتر سکے۔