چلتی بس میں میزبان خاتون کو ہراساں کرنے والے مسافر کے خلاف ایکشن

لاہور سے اسلام آباد کے درمیان چلنے والی نجی بس سروس میں خاتون کو مبینہ طور پر بدتمیزی کرنے اور دھمکی دینے والے شخص کو بس سے آف لوڈ کردیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بس ہوسٹس اور ایک مسافر کے درمیان تلخ کلامی ہورہی ہے اور مسافر کی جانب سے خاتون کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اپنایا جارہا ہے۔

ویڈیو میں مسافر کی جانب سے خاتون بس ہوسٹس سے کہا جارہا کہ ’میں تمہیں باہر پھینک دوں گا، جس پر خاتون بھی غصے میں کہہ رہی ہیں کہ ’تمہاری کیا اوقات مجھے باہر پھینکے کی‘۔

اس پر مسافر کی جانے سے باہر کی طرف کا اشارہ کرتے ہوئے کہا جارہا کہ ’میں تجھے اوقات بتاؤں اپنی، میں ابھی اتار کر تجھے باہر لے جاؤں گا‘ جبکہ خاتون کی جانب سے کہا جارہا کہ ’کہاں لے جاؤ گے‘۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا کے اس تمام صورتحال کے دوران مسافروں کی جانب سے کہا جارہا کہ ’میم آپ چھوڑدیں آپ کیوں جواب دے رہیں جبکہ مرد مسافر کو بھی معاملہ رفع دفعہ کرنے کی درخواست کی جارہی’۔

تاہم اس دوران مسافر کی جانب سے ایک مرتبہ پھر خاتون سے بدتمیزی کی جاتی ہے اور انہیں نامناسب الفاظ کہے جاتے ہیں، جس پر خاتون رونے لگتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود مسافر کی جانب سے خاتون پر جملے کسنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

بعد ازاں اس وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ موٹروے پولیس کی جانب سے بس کو روکا گیا ہے جبکہ مسافروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ جب تک یہ مسافر نہیں اتریں گے ہم گاڑی کو نہیں جانے دیں گے۔

اس موقع پر موٹروے پولیس کی خاتون اہلکار کی جانب سے مرد مسافر کو سمجھانے کی کوشش کی جارہی جبکہ مسافر کی طرف سے کہا گیا کہ میں معذرت کرتا ہوں میں نے غصے میں کہہ دیا تھا، یہ ہماری بہنوں کی طرح ہیں۔

بس میں ہونے والے اس واقعے کے دوران موٹروے پولیس کی خاتون اہلکار کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ہم آپ کو دوسری بس میں بٹھا دیتے ہیں جس پر مرد مسافر نے کہا کہ آپ ایف آئی اے دفر آجانا۔

ویڈیو کے مطابق تھوڑی دیر بعد ایک شخص مسافر کے پاس آکر انہیں بس سے آف لوڈ ہونے کا کہتا ہے، جس پر مسافر کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ میرے ساتھ بدتمیزی ہوئی ہے، میں ابھی منیجر کو بلاتا ہوں اور موٹروے پولیس کو شکایت کرنا چاہتا ہوں۔

دوسری جانب یہ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس بس میں سوار مسافروں کی جانب سے بھی واقعے کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔

مبینہ طور پر خود کو مسافر ظاہر کرنے والے شخص نے لکھا کہ یہ واقعے لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے ایم 2 موٹروے پر شام 6 بجر 10 منٹ پر پیش آیا۔

مسافر نے لکھا کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ بس میں سفر کررہا تھا کہ بس ہوسٹس اپنی معمول کی ڈیوٹی کرتے ہوئے ٹھنڈے پانی کی بوتلیں فراہم کر رہی تھی کہ جب وہ ہمارے پیچھے بیٹھے سبز شلوار قمیض میں ملبوس شخص کے پاس پہنچی تو ان کی جانب سے بڑے برے انداز میں ایک اور بوتل کا کہا گیا، جس پر خاتون بس ہوسٹس نے کہا کہ وہ مسافر کو ایک سے زائد بوتل نہیں دے سکتی۔

واقعے کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے لکھا گیا کہ بس ہوسٹس کے جواب پر مسافر نے ٹرے سے 2 بوتلیں چھینی اور نامناسب زبان استعمال کرنا شروع کردی، جس پر خاتون نے جواب دیا کہ وہ کسی مخصوص مسافر کو خصوصی سہولت نہیں دے سکتی۔

بس میں موجود مبینہ مسافر نے مزید لکھا کہ خاتون کے جواب پر شخص نے چلانا شروع کردیا اور کہا کہ ’تو کون ہوتی ہے مجھے یہ کہنے والی میں بے شک 5 اٹھاؤں، میں کسٹمر ہوں جو مرضی کروں‘، مرد کے اس رویے نے خاتون کو مشتعل کیا اور ان کی جانب سے بھی یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ ’آپ کو میں نے بوتل نہیں دیتی اور تم میرے والد نہیں جو حکم دو’۔

واقعے کا احوال بتاتے ہوئے مزید لکھا گیا کہ لڑکی کے جواب پر مرد نے مزید چلانا شروع کیا اور کہا کہ ’تم چپ کرو میں تمہیں اس بس سے باہر پھینک دوں گا اور تمہیں یہاں سے کہیں اور لے جاؤں گا اور تمہارے ساتھ جو کروں گا وہ دیکھنا‘، ساتھ ہی نامناسب الفاظ استعمال کیے گئے۔

انہوں نے لکھا کہ مسافر کی بدتمیزی پر خاتون آبدیدہ ہوگئی اور پھر مجھ سمیت دیگر مسافروں نے مرد کو بس سے اتارنے کا مطالبہ کیا، بعد ازاں موٹروے پولیس نے بس کو روکا اور ایک خاتون پولیس اہلکار بس میں آئیں، جس پر مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے مسافر کی جانب سے کہا گیا کہ اس کا تعلق ایف آئی اے سے ہے اور وہ ان کے خلاف شکایت کرنے والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا۔

تاہم بعد ازاں مسافر کی جانب سے معذرت کی گئی لیکن اس کے باوجود مسافروں مطالبے پر انہیں بس سے آف لوڈ کردیا گیا۔