دوسری بار وزیراعظم بننے کے خواہشمند مودی کو مشکل صورتحال کا سامنا

اسلام آباد(فاروق اقدس /نامہ نگار خصوصی) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کیلئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن اس مرتبہ کامیابی کیلئے داخلی سطح پر اُنہیں دشوار صورتحال کا سامنا ہے اور بیشمارمشکلات درپیش ہیں ، جن میں بھارت کی تین اہم اور سیاسی طور پر طاقتور خواتین بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں خم ٹھونک کر کھڑی ہیں جنہیں مودی کو وزارت عظمیٰ کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھا جارہا ہے، اب جبکہ عام انتخابات گیارہ سے 19 اپریل تک سات مراحل میں ہونیوالے ہیں، تینوں خواتین کی بھار ت میں مقبولیت اور عوامی سطح پر پذیرائی کے مناظر بی جے پی کیلئے انتہائی پریشان کن دکھائی دے رہے ہیں ، ان میں سرفہرست ممتا بنرجی ہیں جو گزشتہ پانچ سال سے مغربی بنگال کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں 64 سالہ ممتا بنرجی کا شمارمودی کی سخت ترین مخالفین میں ہوتا ہے جو نہ صرف اُن پر کھلم کھلا تنقید کرتی ہیں بلکہ اُن کی حکومت کیخلاف نئے سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں بھی پیش پیش رہتی ہیں، مقبولیت اور مغربی بنگال

کے عوام کیلئے اقدامات کے پیش نظر اُنکی کامیابی کے دعوے کئے جارہے ہیں اور کہا جارہا ہے اگر ممتابنرجی کامیاب ہوگئیں تو حکومت سازی میں اُنکا اہم کردار ادا ہوگا اور بی جے پی کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، اُترپردیش کی سابق وزیراعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کی سربراہ مایاوتی دلت کمیونٹی کی واحد نمائندہ خاتون ہیں جن پر دلت آنکھیں بند کرکے یقین اور اعتماد کرتے ہیں، اُترپردیش کی آبادی 200 ملین سے بھی زیادہ ہے جن میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب اٹھارہ فیصد ہے، اُنکے بارے میں بھارتی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ مایاوتی ملک میں مخلوط حکومت بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں، راجیو گاندھی کی صاحبزادی اور کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی واڈرا نے رواں برس کانگریس کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیاہے، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ عملی سیاست میں نوآموز ہیں لیکن حکمران خانوادے سے تعلق کے باعث ملکی سیاست کے رموز اور عوام کے مزاج سے خوب شناسا ہیں، 47 سالہ پرینکا گاندھی کو اتر پردیش میں کانگریس کی نمائندگی مضبوط کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کیونکہ بھارتی پارلیمنٹ کی کل پانچ سو تینتالیس میں سب سے زیادہ اسی سیٹیں یو پی میں ہی ہیں، کانگریس کی جنرل سیکرٹری اور مشرقی یوپی کا انچارج بنائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ لکھنؤ کےروڈ شو میں صوبہ سے لاکھوں افراد شامل ہوئے، موجودہ وزیر اعظم بھی یو پی کی بنارس سیٹ سے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں، پرینکا گاندھی کے حمایتیوں کی نظر میں وہ اپنی دادی اندرا گاندھی کے مزاج سے مشابہت رکھتی ہیں، سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ پرینکا گاندھی بھارت کی 170 ملین مسلمان آبادی کیساتھ ساتھ ہندو اکثریت کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔