سابق وزیرِاعلی نے بھارت کو اسرائیل سے تشبع دے دی

انڈیا کے زیر انتظام کشیمر کی رہنما محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ اگر انڈیا نے کشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والی دفعہ 370 کو ختم کر دیا تو وہ کشمیر سے اپنا رشتہ کھو دے گا اور اس کی حیثیت اسرائیل کی طرح ایک قابض ملک کی ہوگی۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انڈیا نے جس دن دفعہ 370 ختم کی اسی دن وہ جموں کشمیر میں ایک ناجائز قبضہ کرنے والی طاقت بن جائےگا ’جس طرح فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہے اسی طرح جموں و کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ ہوگا اگر اس نے 370 ختم کیا’۔

محبوبہ مفتی نے یہ بیا ن بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کے اس بیان کے ردعمل میں دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دفعہ 370 ختم کرنا بی جے پی کے آئین میں شامل ہے۔ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا تھا ‘اگر ہماری پارٹی اقتدار میں آگئی تو دفعہ 370 آئندہ برس تک ختم کر دی جائے گی ۔’

محبوبہ مفتی نے کہا ‘آپ خواب غغلت میں ہیں۔ یہ جو آپ مونگیری لال کے سپنے دیکھ رہے ہیں ان کو دیکھنا چھوڑ دیجیئے۔ جموں و کشیمر کا ایک ایک بزرگ ایک ایک نوجوان اس کے لیے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر انڈیا نے آئین کی اس دفعہ کو ہاتھ لگایا تو جموں و کشمیر میں اس کا جو حق ہے وہ ناجائز قبضے میں تبدیل ہو جائےگا۔ آپ کو جموں و کشمیر میں پاؤں رکھنے کی بھی جگہ نہیں ملےگی

آئین کی دفعہ 370

آئین کی دفعہ 370 کے تحت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو دفاع، خارجہ اور مواصلات کو چھوڑ کرباقی معاملات میں خود مختاری دی گئی ہے۔ اس کے تحت ریاست کو اپنا آئین اور اپنی مخصوص شناخت برقرار رکھنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کی شقوں کے تحت کشمیر میں صرف وہیں کے مستقل باشندوں کو زمینیوں کی ملکیت کا حق دیا گیا ہے۔

امت شاہ کے اس بیان کے بعد محبوبہ مفتی کے علاوہ ریاست کی دوسری اہم ہند نوازجماعت نیشنل کانفرنس کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ ریاست کا جن شرائط کے ساتھ الحاق ہوا تھا اس میں یہ طے پایا تھا کہ ریاست کی اپنی مخصوص شناخت ہوگی، اپنا آئین ہو گا، اس کا اپنا پرچم ہو گا، ریاست کا اپنا وزیر اعظم ہوگا۔

’حقیقت یہ ہے کہ یہ ریاست دفعہ 370 کے تحت ہی ہندوستان سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اسے ختم کر دوگے اور دوسری طرف یہ کہو گے کہ یہ ریاست ملک کا حصہ بنی رہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔’

کشمیر میں محبوبہ مفتی کی حکومت گرنے بعد ریاست مرکزی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ حکومت نے علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف زبردست مہم چلا رکھی ہے۔ بیشتر رہنما قید میں ہیں یا نظر بند ہیں۔ متعدد رہنماؤں کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، انکم ٹیکس اور این اے جیسی مرکزی ایجنسیاں تفتیش کر رہی ہیں۔ شبیر شاہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے رہنماؤں کی بعض املاک قرق کر لی گئی ہیں۔ فروری میں پلوامہ کے دہشت گردانہ حملے کے بعد ریاست میں سیکوریٹی فورسز کی موجودگی اور بڑھا دی گئی ہے۔